مقالاتِ سرسیّد کے حصہ سیزدہم میں ذاتی عقاید، استفسارات، واقعاتِ حاضرہ اور اہلِ ترکستان سے متعلق مضامین کا انتخاب کیا گیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر مضامین وہ ہیں جو رسالہ تہذیب الاخلاق، علی گڑھ انسٹیٹیوٹ گزٹ، اخبار سائنٹفک سوسائٹی، علی گڑھ میں شائع ہوئے۔ البتہ کچھ مضامین ایسے بھی ہیں جو کسی کتاب یا الگ سے پمفلٹ وغیرہ کی شکل میں شائع کیے گئے۔ ان مضامین میں نہ صرف یہ کہ سرسیّد کے طرزِ تحریر سے واقفیت ملتی ہے بلکہ ان کے علمی استدلال اور وسعتِ مطالعہ کا بھی پتہ چلتا ہے۔ اس کتاب کے پہلے حصے میں تو خاص طور پر سرسیّد کے اعتقادات اور خیالات سے متعلق مضامین ہیں۔ اکثر مضامین سے پتہ چلتا ہے کہ چند صفحوں کے ایک مضمون کے لیے سرسیّد نے نہ جانے کتنی ہی کتابوں کو کھنگالا ہوگا۔ ان مضامین کو پڑھنے کے بعد قاری کے ذہن میں سرسیّد کی علمی شخصیت خوب نکھر کر سامنے آ جاتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سرسیّد کے مذہبی نظریات سے بھی واقفیت ملتی ہے۔ ان مضامین کو پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ سرسیّد روایتی طرز کے مولوی نہیں تھے بلکہ ہر بات کو دلیل اور عقل سے پرکھ کر قبول کرتے تھے۔ بعض مضامین میں سرسیّد نے یورپین مصنّفین اور عیسائی پادریوں کے اعتراضات کو ردّ کیا ہے تو کہیں پر عام مسلمانوں کے مولویانہ نظریات کو بھی آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ اس جلد میں مختلف النوع مضامین کے موضوعات پر علمی دلائل کو عقل کے ساتھ پرکھ کر گفتگو کی گئی ہے۔
مقالاتِ سرسیّد (حصہ سیز دہم)
₨ 500
- مقالاتِ سرسیّد کے حصہ سیزدہم میں ذاتی عقاید، استفسارات، واقعاتِ حاضرہ اور اہلِ ترکستان سے متعلق مضامین شامل ہیں۔
- یہ مضامین سرسیّد کے رسالے ’’تہذیب الاخلاق‘‘ میں شائع ہوتے رہے۔
- مختلف النوع موضوعات پر علمی دلائل کو عقل کے ساتھ پرکھ کر گفتگو کی گئی ہے۔
Category: مقالات سر سید
Description
Additional information
| مصنف | |
|---|---|
| مرتب |
شیخ محمد اسماعیل پانی پتی |
Shipping & Delivery
Related products
مقالاتِ سرسیّد (حصہ نہم)
₨ 275
مقالاتِ سرسیّد(حصہ چہار دہم)
₨ 400
مقالاتِ سرسیّد (حصہ دو از دہم)
₨ 220
مسافرانِ لندن
₨ 300
خطباتِ سرسید (جامع)
₨ 825
Letters To and From Sir Syed Ahmad Khan
₨ 165
سرسیّد کی سائنٹفک سوسائٹی
₨ 770
سرسیّد احمد خاں، مسلم دینیات کی تعبیرِ نو
₨ 385
- یہ کتاب انگریزی میں کرسچن ڈبلیو ٹرول کی تصنیف کا اُردو ترجمہ ہے جو نقاد قاضی افضال حسین کے نکتہ رس قلم کا کمال ہے۔
- مصنف نے انیسویں صدی میں مطالعۂ اسلامی فکر کے لیے سرسیّد کے افکار اور مسلم دینیات کی تعبیر نو کی اہمیت بیان کی ہے۔
- کتاب کے آخر میں ضمائم بھی شامل ہیںجن کا مطالعہ قاری کےلیے دلچسپی کا باعث ہوگا۔
