‘بچوں کا ادب’ مجلس ترقی ادب کی تازہ ترین اشاعت ہے۔ یہ کتاب بچوں کی کہانیوں پر مشتمل ہے اور اس کے مرتب احمد عدنان طارق ہیں، جو بچوں کے ادب کا بڑا نام ہیں اور انہوں نے قیامِ پاکستان کے بعد کی کہانیوں سے بڑی عرق ریزی سے یہ انتخاب کیا ہے۔ یہ کتب 33 پرسنٹ ڈسکاؤنٹ پر دستیاب ہوں گی۔
“کلیاتِ مصحفی (جلد چہارم: دیوانِ چہارم)” has been added to your cart. View cart
بچوں کا ادب جلد دوم
₨ 800
‘بچوں کا ادب’ مجلس ترقی ادب کی تازہ ترین اشاعت ہے۔ یہ کتاب بچوں کی کہانیوں پر مشتمل ہے اور اس کے مرتب احمد عدنان طارق ہیں، جو بچوں کے ادب کا بڑا نام ہیں اور انہوں نے قیامِ پاکستان کے بعد کی کہانیوں سے بڑی عرق ریزی سے یہ انتخاب کیا ہے۔ یہ کتب 33 پرسنٹ ڈسکاؤنٹ پر دستیاب ہوں گی۔
Category: کلاسیکی شاعری
Related products
کلیاتِ ناسخ (جلد دوم حصہ اول)
₨ 330
روحِ بیدل
₨ 440
مہتابِ داغ
₨ 330
کلیاتِ مصحفی (جلد چہارم: دیوانِ چہارم)
₨ 330
- یہ کتاب ڈاکٹر نور الحسن نقوی کی مرتبہ کلیاتِ مصحفی کی جلد چہارم ہے جو مصحفی کے دیوانِ چہارم پر مشتمل ہے۔
- لکھنؤ کے شعری دبستان میں معاشی تنگی کی زندگی بسر کرنے والے مصحفی کا شمار صفِ اوّل کے اساتذہ میں ہوتا ہے۔
- مصحفی اُردو اور فارسی کے گیارہ دواوین، کئی نثری رسائل اور شعرائے اُردو و فارسی کے تین تذکروں کے مصنف ہیں۔
کلیاتِ مصحفی (جلد اوّل: دیوانِ اوّل)
₨ 330
- یہ کتاب ڈاکٹر نور الحسن نقوی کی مرتبہ کلیاتِ مصحفی کی جلد اوّل ہے جو مصحفی کے دیوانِ اوّل پر مشتمل ہے۔
- لکھنؤ کے شعری دبستان میں معاشی تنگی کی زندگی بسر کرنے والے مصحفی کا شمار صفِ اوّل کے اساتذہ میں ہوتا ہے۔
- مصحفی اُردو اور فارسی کے گیارہ دواوین، کئی نثری رسائل اور شعرائے اُردو و فارسی کے تین تذکروں کے مصنف ہیں۔
دیوانِ صبا
₨ 110
کلیاتِ مصحفی (جلد پنجم: دیوانِ پنجم)
₨ 220
- یہ کتاب ڈاکٹر نور الحسن نقوی کی مرتبہ کلیاتِ مصحفی کی جلد پنجم ہے جو مصحفی کے دیوانِ پنجم پر مشتمل ہے۔
- لکھنؤ کے شعری دبستان میں معاشی تنگی کی زندگی بسر کرنے والے مصحفی کا شمار صفِ اوّل کے اساتذہ میں ہوتا ہے۔
- مصحفی اُردو اور فارسی کے گیارہ دواوین، کئی نثری رسائل اور شعرائے اُردو و فارسی کے تین تذکروں کے مصنف ہیں۔
دیوانِ نواب محبت خان
₨ 500
- میر و سودا کے ہم عصر نواب محبت خاں کا یہ ’’دیوانِ محبت خاں‘‘ پرتو روہیلہ کی فکری پرکھ اور فنِ تدوین کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
- مرتب نے ’’پیش گفتار‘‘ (مقدمہ) میں صاحبِ دیوان کے علاقے اور عہد پر سیر حاصل اظہارِ خیال کیا ہے۔
- دیوان کے قاری کو ہر دوسرا شعر لسانی نشست و برخاست اور فنی ہنر جوئی میں موجزن محسوس ہوتا ہے۔
