‘تشکیلِ انسانیت” رابرٹ بریفالٹ کی تصنیف ہے۔”
عبدالمجید سالک نے اس کا اردو ترجمہ کیا ہے۔
اس کتاب کے چار حصے ہیں جن میں ارتقائے انسانی کے ذرائع اور وظائف، تہزیبِ یورپ کا شجرہِ نسب، نظامِ اخلاق کا ارتقا اور یوٹوپیا کی تمہید شامل ہیں۔
کتاب ایک سو باون صفحات پر مشتمل ہے۔
“نکات” has been added to your cart. View cart
تشکیلِ انسانیت
₨ 440
تشکیلِ انسانیت” رابرٹ بریفالٹ کی تصنیف ہے۔”
عبدالمجید سالک نے اس کا اردو ترجمہ کیا ہے۔
اس کتاب کے چار حصے ہیں جن میں ارتقائے انسانی کے ذرائع اور وظائف، تہزیبِ یورپ کا شجرہِ نسب، نظامِ اخلاق کا ارتقا اور یوٹوپیا کی تمہید شامل ہیں۔
کتاب ایک سو باون صفحات پر مشتمل ہے۔
Category: مقالات(ادبی تنقید)
Description
Shipping & Delivery
Related products
شعر، شعریات اور فکشن
₨ 550
- یہ کتاب ’’شعر، شعریات اور فکشن:شمس الرحمن فاروقی کی تنقید کا مطالعہ‘‘ ڈاکٹر صفدر رشید کا پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے۔
- فارسی اور کلاسیکی اُردو ادب میں شمس الرحمن فاروقی دستگاہ رکھتے ہیں اور انھیں اُردو کے نظریہ ساز نقاد کے طور پر مانا جاتا ہے۔
- کتاب کے آخری صفحات ’’کتاب اور ضمائم‘‘ (شمس الرحمن فاروقی کی علمی و تصنیفی زندگی سوال نامہ) پر مشتمل ہیں۔
مومن
₨ 500
اردو غزل کا تکنیکی ، ہیئتی اور عروضی سفر
₨ 500
مقالاتِ تاثیر
₨ 770
اردو افسانوں میں رومانی رجحانات
₨ 770
- افسانہ نگار اور نقاد ڈاکٹر عالم محمد خان نے یہ تحقیقی کتاب لکھ کر اور پی ایچ ڈی حاصل کر کے بطور محقق شہرت کمائی۔
- ڈاکٹر خان نے رومانی افسانے کو موضوع بنا کر اُردو ادب کے ایک اہم رجحان کے آغاز و ارتقا کا جائزہ لیا ہے۔
- اُردو افسانے اور اُردو میں رومانی تحریک پر کام کرنے والا کوئی محقق اور نقاد آئندہ اس کو نظرانداز نہیں کر سکے گا۔
جدید اُردو نظم میں ہیئت کے تجربے
₨ 770
یورپ میں دکھنی مخطوطات
₨ 880
یورپ میں دکھنی مخطوطات'' کے مولف نصیرالدین ہاشمی ہیں۔''
اس کتاب میں ان دکنی مخطوطات کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے جو انگلستان اسکاٹ لینڈ اور پیرس کے کتب خانوں میں موجود ہیں۔
دکھنی مصنفین کے حالات اور نمونہِ کلام کے ساتھ متفرق اردو اور فارسی نسخوں کے اختلاف بھی پیش کئے گئے ہیں۔
یہ کتاب سات سو چودہ صغحات پر مشتمل ہے۔
اردو شاعری کا مزاج
₨ 550
'اردو شاعری کا مزاج'' ڈاکٹر وزیر آغا کی تصنیف ہے۔''
ڈاکٹر وزیر ایک معروف شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نامور محقق اور ناقد بھی تھے۔
اس کتاب کے بارے میں شاہد شیدائی لکھتے ہیں 'اس کتاب کا پہلا ایڈیشن ١٩٦٥ میں شائع ہوا تھا اور اس کتاب کے چھپتے ہی بحث کے دروازے کھل گئے تھے۔
نہ صرف یہاں بلکہ بھارت میں بھی کہ اس میں برِصغیر کی تہزیب اور ثقافت کے حوالے سے اردو کی شعری اصناف کا جائزہ لیا گیا تھا اور یہ کام اردو ادب میں پہلی بار ہوا تھا'۔
صفحات کی تعداد چار سو بیس ہے
