سکھ عہد حکومت اس لحاظ سے بدقسمت دور ہے کہ اس کے بارے میں ٹھوس حقائق کی بجائے افواہیں گردش میں نظر آتی ہیں۔ اس دور کی خوبیوں اور خامیوں پر غیر جانبدارانہ تحقیقی نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر انجم رحمانی ایک معتبر محقق اور مؤرخ ہیں۔ انھوں نے اس اہم کتاب کی تدوین کا کام کر کے اردو کے قارئین پہ گویا احسان کیا ہے مجلسِ ترقیِ ادب نے یہ اہم کتاب خو ب صورت گیٹ اپ میں شائع کر دی ہے 338 صفحات پر مشتمل یہ کتاب 1100 روپے میں دستیاب ہے۔
خورشید پنجاب
₨ 1,100
سکھ عہد حکومت اس لحاظ سے بدقسمت دور ہے کہ اس کے بارے میں ٹھوس حقائق کی بجائے افواہیں گردش میں نظر آتی ہیں۔ اس دور کی خوبیوں اور خامیوں پر غیر جانبدارانہ تحقیقی نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر انجم رحمانی ایک معتبر محقق اور مؤرخ ہیں۔ انھوں نے اس اہم کتاب کی تدوین کا کام کر کے اردو کے قارئین پہ گویا احسان کیا ہے مجلسِ ترقیِ ادب نے یہ اہم کتاب خو ب صورت گیٹ اپ میں شائع کر دی ہے 338 صفحات پر مشتمل یہ کتاب 1100 روپے میں دستیاب ہے۔
Category: کلاسیکی شاعری
Related products
روحِ بیدل
₨ 440
کلیاتِ مصحفی (جلد پنجم: دیوانِ پنجم)
₨ 220
- یہ کتاب ڈاکٹر نور الحسن نقوی کی مرتبہ کلیاتِ مصحفی کی جلد پنجم ہے جو مصحفی کے دیوانِ پنجم پر مشتمل ہے۔
- لکھنؤ کے شعری دبستان میں معاشی تنگی کی زندگی بسر کرنے والے مصحفی کا شمار صفِ اوّل کے اساتذہ میں ہوتا ہے۔
- مصحفی اُردو اور فارسی کے گیارہ دواوین، کئی نثری رسائل اور شعرائے اُردو و فارسی کے تین تذکروں کے مصنف ہیں۔
کلیاتِ سودا (جلد اوّل: غزلیات)
₨ 440
دیوان زادہ
₨ 440
کلیات سالک
₨ 220
کلیاتِ مصحفی (جلد ہفتم: دیوانِ ہفتم)
₨ 220
- یہ کتاب ڈاکٹر نور الحسن نقوی کی مرتبہ کلیاتِ مصحفی کی جلد ہفتم ہے جو مصحفی کے دیوانِ ہفتم پر مشتمل ہے۔
- لکھنؤ کے شعری دبستان میں معاشی تنگی کی زندگی بسر کرنے والے مصحفی کا شمار صفِ اوّل کے اساتذہ میں ہوتا ہے۔
- مصحفی اُردو اور فارسی کے گیارہ دواوین، کئی نثری رسائل اور شعرائے اُردو و فارسی کے تین تذکروں کے مصنف ہیں۔
کلیاتِ سودا (جلد چہارم: متفرق منظومات)
₨ 330
دیوانِ نواب محبت خان
₨ 500
- میر و سودا کے ہم عصر نواب محبت خاں کا یہ ’’دیوانِ محبت خاں‘‘ پرتو روہیلہ کی فکری پرکھ اور فنِ تدوین کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
- مرتب نے ’’پیش گفتار‘‘ (مقدمہ) میں صاحبِ دیوان کے علاقے اور عہد پر سیر حاصل اظہارِ خیال کیا ہے۔
- دیوان کے قاری کو ہر دوسرا شعر لسانی نشست و برخاست اور فنی ہنر جوئی میں موجزن محسوس ہوتا ہے۔
